ابنا: اوہنگام بیروہ میں گذشتہ شب تقریباً 12:30 بجے حنفی مسجد کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی لوگوں نے جب مسجد کو آگ کے شعلوں میں لت پت پایا تو وہ اپنے گھروں سے نکل آئے اور آگ بجھانے میں لگ گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق مقامی لوگوں کے اس بر وقت اقدام نے مسجد کو پوری طرح شہید ہونے سے بچا لیا۔
یہ خبر پورے علاقہ میں جنگل کی آگ کے مانند پھیل گئی اور آج صبح سے ہی لوگوں کی کثیر تعداد بیروہ پہنچے اور اس دلدوز سانحہ کے خلاف رنج و غم کا اظہار کیا۔
کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمائندہ اور برصغیر کے لئے تقریب خبر رساں ادارے کے بیورو چیف حجت الاسلام والمسلمین حاج عبد الحسین کشمیری بھی بیروہ پہنچے اور میر واعظ وسطی کشمیر و جامع مسجد بیروہ کے امام جمعہ مولانا سید عبد الطیف بخاری کے ساتھ بیروہ سے اوہنگام تک احتجاجی جلوس کی قیادت کی۔ امریکہ اور اسرائیل مخالف فلک شگاف نعروں کے بیچ یہ احتجاجی جلوس چیوڈارہ سے ہوتے ہوئے اوہنگام پہنچا۔ جلوس میں لوگوں کے علاوہ ضلع انتظامیہ کے ذمہ داران بھی شام تھے۔
اوہنگام میں احتجاجی جلوس سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ وسطی کشمیر مولانا سید عبد الطیف بخاری نے کہا: مسجد اسلام کی علامت ہے، جس طرح کسی ملک کے جھنڈے کی بے حرمتی اس قوم اور اس ملک کی بے حرمتی کے مترادف ہے اسی طرح مسجد کی بے حرمتی فقط مسجد کی بے حرمتی نہیں بلکہ اسلام کی بے حرمتی ہے۔ جس بد بخت نے یہ گھنونا کام انجام دیا اللہ تعالیٰ اسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا۔ کشمیر میں لگاتار ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئی گروپ یا ایجنسی ہے جو کشمیر کے امن و امان کو درہم برہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ کشمیر میں بد امنی پھیلنی چاہئے اور اس مقصد کے حصول کے لئے ایسی سازشیں انجام دی جارہی ہیں۔
میر واعظ عبد الطیف نے لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: ہمیں چاہئے کہ ہر اس سازش جو مسلمانوں کو منتشر کرنے کے لئے کی جارہی ہے کا مقابلہ کر کے ناکام بنائے۔ سامراجی اور صیہونی قوتیں مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لئے کئی سازشیں رچ رہی ہیں۔ پہلے انہوں نے پاکستان کو اپنی اس سازش کا شکار بنایا اور اب وہ کشمیر میں فرقہ واریت کا زہر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جامع مسجد بیروہ کے امام جمعہ نے لوگوں کو اتحاد و اتفاق قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر ہم مسلکوں، گروپوں میں تقسیم ہوگئے تو یہ ہمارے لئے باعث عذاب ہوگا۔ اسلام یہی چاہتا ہے کہ مسلمان ایک ہوکر رہیں۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمائندہ حاج عبد الحسین کشمیری نے کہا: جو ظالم خانہ خدا میں ذکر خدا روکنے کا اہتمام کرتا ہے اس کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ آج کے اس واقعہ سے ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان سازشوں کے پیچھے کتنی بڑی فکر کار فرما ہے جو کہ اللہ کے گھر کا لحاظ بھی نہیں کرتی۔
حاج عبد الحسین کشمیر نے کہا: ہماری ناراضگی بجا ہے۔ وعدوں یا دلاسوں سے یہ غم برطرف نہیں ہوسکتا ہے۔ باتوں سے اس درد کو کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مگر ہمیں قرآن کے دوسرے پیغام کا بھی خیال رکھنا ہے جہاں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ‘‘جن لوگوں میں تفرقہ پیدا ہوا وہ ٹکڑوں میں بٹ گئے’’۔ قرآن ہمیں یہی دعوت دیتا ہے کہ ہم ایک متحد قوم بنکے رہیں۔ ہم جذباتوں کے بہاؤ میں آکر فرمان الہٰی سے منہ نہیں پھیر سکتے۔ ہمیں ایسے واقعات کا تدّبر کے ساتھ جواب دینا چاہئے کیونکہ دشمن بھی یہی چاہتا ہے کہ ہمارے جذباتوں کو اس قدر ٹھیس پہنچائے کہ ہمیں مٹانے میں ان کو آسانی ہوجائے۔ امریکہ اور اسرائیل دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کو اسی طرح پریشان رکھنا چاہتا ہے۔ کشمیر میں صیہونی قوتیں ایسی سازشیں کر رہی ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں۔ پاکستان میں بھی یہی حربہ استعمال میں لایا گیا۔
برصغیر کے لئے تقریب خبر رساں ادارے کے بیور چیف نے کہا: ایسے نازک حالاتوں میں ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور تمام مسالک باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں اور اپنے صفحوں میں انتشار کو جنم نہ لینے دیں۔
اس موقع پر ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام خورشید احمد شاہ نے بھی خطاب کیا۔
.......
/169